نہ ہارا ہے عشق، نہ دنیا تھکی ہے


Related image
کچھ کے لئے قادیانی، کچھ کے لئے ملک دشمن، کچھ کے لئے اسلام دشمن، کچھ کے لئے راء ایجنٹ، کچھ کے لئے لادین اور مجھ جیسے چند کے لئے ایک بہادر و دلیر مسیحا، عاصمہ جہانگیر بروز اتوار انتقال کر گئیں۔

ہمارے ملک کی عجیب ہی ریت بن چکی ہے، جو جنگ سے انکار کرے، جو دو ہمسایوں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و محبت کی بات کرے وہ غدار ہے، وہ بہت برا ہے۔ عاصمہ بھی انہیں تہمتوں کی شکار ایک بہادر خاتون تھیں۔ عاصمہ سے ایک دفعہ ٹی۔ وی۔ شو میں پوچھا گیا، ہمارے ہاں عورتیں مردوں سے ہمیشہ پیچھے رہی ہیں تو آگے سے کہنے لگیں، “ہاں واقعی میں عورت پیچھے رہی ہے۔ عورت نے جنگیں نہیں کروائیں، عورت نے شہر نہیں اجاڑے، عورت نے گھروں میں صفِ ماتم نہیں بچھوائیں، عورت ان سب کا شکار رہی ہے۔ عورت فرعون نہیں بنی، نہ ہی عورت نمرود بنی۔ عورت تو ماں جیسی ہستی بنی، عورت تو بیٹی کی صورت میں رحمت بنی، عورت تو بیوی کی صورت میں سہارا بنی۔” وہ مختاراں جسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور جب مختاراں کے گھر میں نظر بند کیا گیا، وہ پندرہ دن عاصمہ مسلسل مختاراں کو فون کر کے اس کا حال احوال پوچھتی رہیں اور اپنے راستے پر ڈٹے رہنے کی ترغیب کرتی رہیں۔ عاصمہ کی جہنم کی لئے دعائیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو سترہزار سے زائد پاکستانیوں کے قاتلوں کے لئے دعائے مغفرت کر چکے ہیں۔

لوگ بدل کر کیا سے کیا ہو گئے، عاصمہ جہانگیر نہیں بدلیں۔ نواز شریف کو اپنے عروج کے دنوں میں عاصمہ بہت بری لگتی تھیں جس طرح انہیں یہ لبرلز برے لگتے تھے لیکن جب وہ انہیں عاصمہ کے نظریے کی ضرورت پڑی تو فوراََ اس طرف آ گئے۔ عمران خان جنہیں عاصمہ کچھ عرصے پہلے تک تو اچھی لگتی تھیں لیکن جب سے انہوں نے عدلیہ کی مکمل بحالی کی بات کی تو انہیں ناجانے کیوں بری لگنے لگیں۔ الطاف حسین جنہوں نے عاصمہ جہانگیر کے خلاف کیسے کیسے بیانات دئیے، جب الطاف حسین کی تقریر پر پابندی لگی، تب عاصمہ الطاف حسین کا کیس لے کر عدالت کے دروازے پر جا کھڑی ہوئیں۔
وہ اینکر و صحافی عاصمہ پر غداری و کفر کے فتوے لگاتے تھے جب ان پر پابندیاں لگیں تب عاصمہ ان کے پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔ زید زمان حامد جو خود کو دفاقعی تجزیہ کار کہلاتے ہیں، جنہوں نے عاصمہ کی زندگی میں ایسا کوئی الزام نہیں تھا جو نہ لگایا ہو اور آج عاصمہ کے مرنے کے بعد بھی لگا رہے ہیں۔ جب اسی زید حامد کو سعودی حکومت نے نفرت انگیز تقاریر پر گرفتا رکر لیا تھا، تب یہ عاصمہ اس کے حق میں نکلیں اور اس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ توہینِ مذہب کے وہ کیس جن کو لیتے ہوئے باقی وکیلوں کے پر جلتے تھے، بِلا خوف لے لیتی تھیں۔ انہوں نے فوج کا آرٹیکل 184 کے تحت آڈٹ کے مطالبہ کیا تو کیا غلط کیا؟ پورے ملک احتساب کیا جا سکتا ہے تو فوج کا کیوں نہیں؟ اگر دودھ اتنا ہی سفید ہے تو بھنبھناہٹ کیوں؟
لوگ عاصمہ کو بھارتی ایجنٹ کہتے رہے اور عاصمہ برہان وانی کے حق میں ہونے والے احتجاجوں میں مودی کو لومڑ کہتی رہیں اور کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرتی رہیں۔ جب مشرف کے حق میں لبرلز کی جماعت اکٹھی ہو گئی تھی تب عاصمہ ہی تھیں جو مشرف کے پیپرز نومینیشن کے خلاف وہاں سڑک پر نکلیں۔ ان پر لاٹھی چارج بھی ہوا اور گھسیٹا بھی گیا اور اس سب کے درمیان عاصمہ ان پولیس والوں کو اپنا مشہورِ زمانہ جملہ کہہ رہی تھیں، فٹے منہ توہاڈا۔
خدیجہ حملہ کیس میں جب کچھ وکلاء کا بھی ہاتھ تھا۔ عاصمہ کو کہا گیا کہ اس کیس سے دور رہیں ، الیکشن سر پر ہیں، ہار جائینگے ہم۔ عاصمہ جہانگیر تب بھی نہیں مانیں۔ آفاق احمد کا کیس عاصمہ نے اس وقت لیا جس وقت الطاف حسین کے نام کا سکّہ پورے پاکستان میں چل رہا تھا۔ بےنظیر بھٹو نے جب عاصمہ کو جج بننے کی آفر کی تو عاصمہ نے ٹھکرا دی، 2013ء میں پنجاب کی نگران وزیر اعلیٰ بنانے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی راضی تھیں لیکن عاصمہ نہ مانیں۔
مجھ سے اگر پوچھیں عاصمہ کون تھیں تو میرے لئے عاصمہ ایک اچھی ماں، استاد اور رہنما تھیں۔ ان کی کچھ چیزیں تھیں جن پر میں ان سے اختلاف کرتا تھا مگر عاصمہ صاحبہ کا ظرف بہت اونچا تھا جس کے سامنے بڑے سے بڑا چھوٹا لگنے لگے۔میری بدقسمتی ان سے زندگی میں صرف ایک ہی بار ملاقات ہوئی۔ وہ ملاقات لاہور ایک تقریب میں ہوئی۔ وہ ایک سٹال پر کھڑی ایک خاتون کا حوصلہ بڑھانے میں مصروف تھیں۔ میں قریب جا کر کھڑا ہوا، میری جانب متوجہ ہو کر کہنے لگیں ہاں نوجوان! کیا حکم ہے؟ میں نے جواباََ اپنا تعارف کروایا تو میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ساتھ چلنے لگیں اور پوچھا، “کل نُو پیو دا کاروبار سنبالنا اے یا کج کر کے وکھانا اے؟” میں نے کچھ جھجھکتے ہوئے بتایا کہ فوج میں جانا چاہتا ہوں ورنہ انشاءللّٰہ صحافت۔ تو مسکرا کر کہنے لگیں، “جوانا! گل انّیَ جی ہے،  چنگا بندا او ہوند اے جیدے نال قوم دا تے عام بندے دا فیدہ ہووے، ایک ادارے دا خواہ فوج ہووے یا کوئی میڈیا ہاؤس، فیدہ تُو قوم دا ویکھنا اے۔ باقی اَک وعدہ کر صحافت ایچ جے آیاں تے پہلا انٹرویو میرا کریں۔” اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا۔ وہ وعدہ وفا نہیں ہو پایا۔ وہ اس سے پہلے ہی جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ جب ان سے گفتگو کے بعد اجازت چاہی تو مسکراتے ہوئے دعا دینے لگیں، “خوش رہ کاکا! ہمیشہ انسان رہ۔” آج  عاصمہ کے دشمنوں کو دیکھتا ہوں تو ان پر ترس آتا ہے۔ عاصمہ سے نفرت کرنے والے دشمن کتنے نیچ اور گھٹیا ہیں، جو  ان کی موت کے بعد بھی ان کے خلاف ہرزاہ سرائی میں مصروف العمل ہیں۔
بقول یاسر الیاس،
گستاخ لگی نہ غدار لگی
ہاں تھوڑی سی بیدار لگی
مردوں کے اس ریوڑ میں
اک عورت ہی جی دارلگی۔


نوٹ: فلک آفیشل اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھFarakh0000@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

 



محمد طلال خالد
محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔
نہ ہارا ہے عشق، نہ دنیا تھکی ہے  نہ ہارا ہے عشق، نہ دنیا تھکی ہے Reviewed by Farakh Iqbal on March 02, 2018 Rating: 5
Powered by Blogger.