قصور واقعی عوام کا ہے ؟



قصور واقعی عوام کا ہے ؟


اس سال کے شروع میں جب ڈاکٹر طاہرالقادری نے مال روڈ پر ایک نام نہاد جلسے میں اس بات کا دعویٰ کیا کہ وہ جب چاہیں اپنے دائیں اور بائیں عمران خان اور آصف زرداری کو بٹھا سکتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے وفاقی حکومت اور خاص طور پر پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ہر بار کی طرح اس بار بھی شہدائے ماڈل ٹاؤن کے نام پر ایک ناکام جلسہ کر کے بہر طور یہ ثابت کر دیا کہ ایسی جماعتیں صرف لوگوں کا ہجوم تو اکٹھا کر سکتی ہے مگر اس ہجوم کو کسی بھی طور تعمیری کام اور ملک کی فلاح کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

اس جلسے میں ہر بار کی طرح عوامی مسلم لیگ کے رہنما جناب شیخ رشید نے شعلہ بیانی کا مظاہرہ کیا اور اس بار وہ اپنی تقریر میں بنا کچھ سوچے سمجھے وہ کچھ بول گئے جس کی شاید سمجھ شیخ صاحب کو بھی نہیں تھی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ ایسی جمہوریت پر، اس پارلیمنٹ پر، ایسے وزیراعظم پر، چیف منسٹر پر اور ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں پر ہزار بار لعنت بھیجتے ہیں۔ شیخ رشید احمد نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان بھی کیا۔ شیخ صاحب نے اپنی تقریر میں عمران خان کو بھی اکسایا اور ان کو بھی استفا دینے کی طرف مائل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور مزید کہا ! یہ بے شرم تقریروں سے نہیں جائیں گے، عمران خان لاٹھی، نیزہ اٹھاؤ اور جاتی امراء کی طرف مارچ کرو۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ جلسہ فلم بری طرح فلاپ ہوئی جس کے لیے یہ کہا جا رہا تھا کہ عوام کا جم غفیر اور کھڑکی توڑ رش اس بات کی عکاسی کرے گا کہ عوام کینیڈین بابا کی باتوں میں آ کر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست پر یقین کریں گے اور مارچ میں ہونے والے سینٹ انتخابات کوملتوی کروا دیا جائے یا بھرپور کوشش کی جائے کہ سینیٹ انتخابات سے پہلے حکومت کو گھر بھیج دیا جائے۔مگر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ شیخ رشید جو کہ پچھلے چند سالوں سے عمران خان کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہو ں اور وہ عمران خان کی طرح یوٹرن نہ کریں یہ تو ممکن ہی نہیں۔ اور پھر وہی ہوا جو سب نے دیکھا کہ شیخ صاحب نے بھرے پنڈال میں جھوٹ بولا مرد ہو کر اپنی زبان سے پھر گئےجس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی وہاں اپنا استعفیٰ تک نہیں بھیجا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے استعفیٰ نہیں دیا تو بے شرموں کی طرح یہ کہہ کر بات ٹال دی کے وقت گزر گیا ہے۔

نئی مردم شماری کے تحت آبادی کے تناسب سے قومی اسمبلی کی ہر نشست 7 لاکھ 91 ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی تو اس کا مطلب ہے شیخ رشید نےاپنے حلقے کے تقریبا 8 لاکھ لوگوں پر لعنت بھیجی۔ شیخ رشید کی یہ بات سننے کے بعد شاید مجھے بھی کہیں نہ کہیں یہ محسوس ہونے لگ گیا ہے کہ ہم جن لوگوں کو منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ عوام کی فلاح اور ملک کے مفاد کے لیے اپنی خدمات سر انجام دیں وہ لوگ منتخب ہونے کے بعد اپنی اوقات سے باہر نکل جاتے ہیں اور اس عوام کو جس نے ووٹ کو ایک مقدس امانت سمجھ کر امانتدار تک پہنچایا ،ووٹ کے تقدس کو سمجھا ۔وہ عوام کو دشنام کا نشانہ بنا کرہمیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ شاید سب سے بڑے لعنتی ہم ہیں جوان کم ظرف ،احسان فراموش جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کرنے والوں کو منتخب کرکے اپنے ہاتھوں سے دہشت گرد بنا رہے ہیں۔ پھر دشمن اپنے اندر ڈھونڈنے کے بجائے ان دشمنوں کو سرحد پار تلاش کرتے ہیں اور ہم عوام یہ نہیں سمجھ سکتے کی خودکش سیاست دان ہمارے اندر اور ہماری صفوں میں شامل ہوکر نظریہ پاکستان کی بنیاد کو کھوکھلا کر رہی ہے ۔ کیا 2018 ءمیں ہونے والے عام انتخابات اور اس کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت ایسے ہی ہم پر لعن طعن کرے گی اور پھر ہمیں کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہو گا کہ ہم واقعی میں لعنتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قصور واقعی عوام کا ہے ؟ قصور واقعی عوام کا ہے ؟ Reviewed by Farakh Iqbal on March 08, 2018 Rating: 5
Powered by Blogger.