غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے


 Related image
غالب کو بچھڑے ڈیڑھ سو سال بیت گئے لیکن ان کے اشعار، باتیں اور طرزِ زندگی اب بھی موضوع گفتگو ہیں۔
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
اردو شاعری میں مرزاغالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے تھے۔
آہ کو چاہئیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، “غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔” روزمرہ اردو محاوروں کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔
عبدالرحمان بجنوری لکھتے ہیں کہ، “ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں “وید مقدس” اور “دیوان غالب”۔
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے تھے، اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے اور انگریز قوم کو ملک پر اقتدار قائم کرتے ہوئے دیکھا.غالباً یہی پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی جس کا عکس ان کی شاعری میں ابھرتا نظر آتا ہے۔
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
غالب کی ذاتی زندگی بھی تلخیوں اور محرومیوں کی زنجیر ہے۔ بچپن میں باپ کی موت، چچا کی پرورش، پھر ان کی شفقت سے بھی محرومی، تیرہ سال کی ناپختہ عمر میں شادی کا بندھن، بیوی کے مزاج کا شدید اختلاف، قرضوں کا بوجھ۔ ان سب نے غالب کو زمانے کی قدرشناسی کا شاکی بنا دیا۔
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
مرزا غالب نے ویسے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی تھی لیکن غزل گوئی میں ان کو امتیازی حیثیت حاصل ہے. یہ بات قابلِ ذکر ہےکہ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ فارسی زبان میں بھی شاعری کی ہے۔
ہوگا ایسا بھی کوئی جو غالب کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
غالب کی شاعری میں نکتہ آفرینی پائی جاتی ہے۔ غالب عام روش سے ہٹ کر چلنا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے لفظی سے زیادہ معنو ی نکتہ آفرینی پر زور دیا۔ ان کی نکتہ آفرینی سلاست، گہرائی اور معنویت سے پُر ہے۔ اس میدان میں غالب نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن، پھر بھی کم نکلے
غالب کا یہ شعر کچھ اتنا مشہور و معروف ہے کہ عام آدمی بھی اسے پڑھتا رہتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ غالب نے انسان کے احساس اور جذبے کو چھوا ہے۔
غالب کی سب سے بڑی خوبی تو یہی ہے کہ وہ کسی بھی مضمون کو کچھ اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ قاری یا سامع خود بخود اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ اس بات کا خود غالب کو بھی اندازہ تھا کہ ان کا طرزِ اظہار دوسروں سے یکسر جداگانہ ہے اور وہ اپنے انداز بیان کا فخریہ اظہار بھی کرتے ہیں۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
غالب کی شوخی و ظرافت ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ کبھی خود پر ہنسنا، کبھی دوسروں پر طنز کرنا اور کبھی محبوب سے اور کبھی خالق کائنات سے شوخی۔ اسی طرح ایک انسان یا ایک بندہ اپنے وجود، کائنات اور معاشرے سے کس طرح کا رشتہ رکھ سکتا ہے یا یہ کہہ لیں کہ غالب ان پر بطور ایک شاعر یا فنکار کے، کس طرح نگاہ ڈالتے ہیں، وہ غور طلب ہے۔
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
غالب کوئی باقاعدہ صوفی شاعر نہ تھے اور نہ اُن کو تصوف سے دلچسپی تھی لیکن پھر بھی ان کی شاعری میں بعض مقامات پر تصوف کے عناصر ملتے ہیں۔ طبیعتیں بھی غم و الم اور فرار کی طرف مائل تھیں۔غالب نے اس کا اظہار اس طرح بھی کیا۔
یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
27دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہونے والے، مغل بادشاہ کی طرف سے نجم الدولہ، دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات پانے والے اور15 فروری 1869 کو چل بسنے والے، مرزا اسد اللہ خان کا تخلص غالب تھا اور اس کا اثر ان کے کلام پر بھی رہا۔
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
اردو شاعری کو نئے رجحانات سے روشناس کرانے والے یہ شاعر اردو ادب میں ہمیشہ غالب رہیں گے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھFarakh0000@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

نوٹ: فلک آفیشل اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 
غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے  غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے Reviewed by Farakh Iqbal on March 02, 2018 Rating: 5
Powered by Blogger.