آڈیٹوریم میں خطاب، مولانا طارق جمیل نے پنجاب یونیورسٹی میں نئی تاریخ رقم کر دی



لاہور (فرخ اقبال) معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے گذشتہ روز پنجاب یونیورسٹی میں خطاب کیا جس میں انہوں نے ملکی حالات اور مسلمانوں میں کشیدگی کی موجودہ صورتِ حال پر روشنی ڈالی۔ سامعین کی کثیر تعداد مولانا طارق جمیل کو سننے کے لئے آئی. چشمِ فلق نے ایسا منظر پنجاب یونیورسٹی کی فضاؤں میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا. پنجاب یونیورسٹی کا فیصل آڈیٹوریم سامعین سے بھر گیا اوربعد میں آنے والے طلبہ و طالبات اور بزرگ حضرات نے یونیورسٹی کے فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر انکا لیکچر سماعت کیا۔ سامعین کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی میں اس سے پہلے بھی پروگراموں میں صدور اور دوسری بین الاقوامی شخصیات آتی رہی ہیں لیکن لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت اور اس طرح کی محبت پہلے کبھی نہیں دیکھی اور اتنے بڑے ہجوم میں بھی جب مولانا نے خطاب شروع کیا تو یکدم سناٹا چھا گیا کہ گھڑی کی سوئی کی آوازتک سنی جا سکتی تھی۔
مولانا طارق جمیل کا خطبے کی ایک جھلک
مولانا نے فرمایا کہ ایسی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا حصہ نہیں بننا چاہئے جو لڑا رہی ہیں کیونکہ سیاست اور مذہب دست و گریباں ہونے کا نام نہیں انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں اور مولویوں کا آلہ کار نہ بنیں جو منفی راستوں پر چلائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی شعبہ امور طلبہ کے زیر اہتمام ’نبی کریم ﷺ کی سیرت کی رہنمائی میں امن اور رواداری ‘کے موضوع پر فیصل آڈیٹویم میں منعقدہ خصوصی لیکچر میں کیا اپنے خطاب میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ہمارا ایک ہی تعارف ہے کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں فرقوں میں نہیں بٹنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ ہمیں فرقوں میں تقسیم کرتے ہیں وہ بڑے دہشت گرد ہیں اور وہ سیاستدان جو امت کو اپنی منفی سیاست کے لئے استعمال کریں وہ بڑے دہشت گرد ہیں۔ دشمنی اور نفرت کی سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانا مذہبی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی سنت یہ ہے کہ دل میں کسی کے لئے نفرت نہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی نوجوان نسل کردار سازی بھول جائے تو زوال سے
نہیں بچایا جاسکتا ۔ ہمارا سب سے بڑا سرمایہ اخلاق اور دوسروں کو معاف کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا ناقابل تلافی نقصان بد زبانی، بد اخلاقی اور ظلم و ستم کی مختلف شکلیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انبیا کے آنے کا مقصدا اچھے انسان بننا سکھانا تھاموت ایسی ہونی چاہئے کہ اللہ اور فرشتے استقبال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سچائی، دیانتداری، انصاف، تواضع، عاجزی، سخاوت اور پاکدامنی سیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کی پیروی کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے اللہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے طلباء و طالبات کو نصیحت کی کہ آپ کا علم ایسا ہونا چاہئے کہ لوگ آپ سے سیکھنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ علم والے بنیں نہ کہ صرف ڈگری والے۔ انہوں نے کہا کہ دین کاخلاصہ یہ ہے کہ زبان کو قابو میں رکھیں۔ جھوٹ ،دھوکہ دہی ، غیبت ، بد دیانتی اوربد کلامی سے بچیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کے سامنے زبان سنبھال کر بات کرنی چاہئے انہوں نے کہا کہ سب سے اہم رشتہ میاں بیوی کا ہے ہمیں تمام رشتوں کو عزت دینی چاہئے اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے ۔
آڈیٹوریم میں خطاب، مولانا طارق جمیل نے پنجاب یونیورسٹی میں نئی تاریخ رقم کر دی آڈیٹوریم میں خطاب، مولانا طارق جمیل نے پنجاب یونیورسٹی میں نئی تاریخ رقم کر دی Reviewed by Farakh Iqbal on March 01, 2018 Rating: 5
Powered by Blogger.